14 فروری بطور یوم حیا
جب کبھی غیرت انسان کا سوال آتا ہے
بنت زہرہ تیرے پردے کا خیال آتا ہے
اس تحریر کو پڑھ کر اگر کسی ایک بندے نے بھی اپنے گھریلو ماحول کے بارے میں صرف سوچ بھی لیا تو میں سمجھوں گا میری محنت رائیگاں نہیں گئی ۔سیانڑے آہدن آپنڑاں گھر سوگھا رکھو تے چور کساں نہ صدو
اگر آپ اپنے اندر حیا نہیں رکھتے۔ تو پھر آپ آزاد ہو جو چاہے کرو۔ ویلینٹائن ڈے یا اس جیسی فضول رسموں سے پاکستان کو بچانے کےلیئےاپنا کردار ادا کیجئے۔یہ رسم سراسر بے حیائی ہے ۔ نکاح جیسے جائز رشتوں کو اپنائیں جس سے پیار کرتے ہیں اسے اپنی شریک حیات بنائیں ۔ ہوس کی تعمیل میں گزارے چند لمحے محبت نہیں ہوتے ۔اللہ پاک نہایت باحیا اور ستر پوش (عیب پوش) ہے اللہ پاک حیا اور پردہ کو پسند فرماتا ہے۔ہمیں اپنے گھر کا ماحول سدھارنا ہوگا ۔ پورا معاشرہ درست کرنا ہمارے بس میں نہیں ہے لیکن اپنے گھر کا ماحول تو درست کر سکتے ہیں ۔ دین فطرت سے وابستگی ان تمام پریشانیوں کا بخوبی حل ہے ۔گھروں میں اسلامی ماحول کو ترویج دیں ۔ بیٹیوں کو بچپن سے ہی پردے اور حیا کی تاکید رکھیں ۔ اس کے ساتھ میں وز کڈز اسکول انتظامیہ کا بھی مشکور ہوں جنہوں نے ڈریس کوڈ کی خلاف ورزی کے باوجود میری بیٹیوں کی باحجاب سکول آمد کو سراہا ہے۔ کہتے ہیں کہ مرد کی غیرت کا اندازہ اسکی ماں بہن بیوی بیٹی کے لباس سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے لیکن اس کے ساتھ ایک مرد کی غیرت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے. کہ اس نے اپنی بیٹی پر بیوی پر بہن پر.. کتنے قرض چھوڑے ہیں. بہت ہی گری ہوئی غیرت ہے اس مرد کی. جو کسی کی عزت ساتھ کھیل جائے جذبات کے ساتھ کھیل جائے اور اسے اس بات کا اندازہ بھی نہ ہو کہ اس نے کیا کر دیا ہے. اور اپنی بیٹی کے لئے کیا چھوڑا ہے.. عزت چھوڑی ہے یا اپنی گری ہوئی غیرت .باحیا عورت ماں بہن بیٹی بیوی کے روپ میں والدین کےلئے باعثِ فخر، بھائیوں کیلئے باعثِ عزت،شوہر کیلئے دنیا کا قیمتی سرمایہ اور اولاد کیلئے عمدہ نمونہ ہوتی ہے بہن بیٹیوں سے درخواست ہے آپ اپنے باپ بھائیوں کا غرور ہو نادانی میں کوئی ایسا کام نہ کرنا جس سے تمھارے باپ بھائیوں کا سر شرم سے جھک جائے اللہ تعالی تمام بہن بیٹیوں کی عزت و پردے محفوظ رکھے اور انہیں ذہرہ پاک کی کنیزیں بننے کی سعادت نصیب فرمائے یااللہ ہماری قوم کو بے حیائی سے بچنے کی توفیق عطا فرما آمین ثم آمین
از قلم شہزاد حیدر گجر نمبردار چوآ سیدن شاہ
... See MoreSee Less

View on Facebook

چوآسیدن شاہ کے علاقہ کہون میں سیمنٹ فیکٹریوں کے ماحول دشمن اقدامات کی وجہ سے فضائی آلودگی ، قدرتی وسائل کی تباہی ، اور آبی وسائل پر قبضہ کے بعد پیدا ہونے والی تکلیف دہ صورت حال صرف اس علاقہ کے ذی شعور عوام کے لئے ہی نہیں پورے ضلع چکوال کے عوام کے لئے لمحہ فکریہ بن چکی ہے ۔سیمنٹ فیکٹری مالکان کی ہٹ دھرمی اور ماحول دشمن اقدامات ناقابل معافی جرم بن چکا ہے کیونکہ انھوں نے ضلع چکوال کی حسین وادی کہون ہی کو نہیں بلکہ عظیم تاریخی ورثہ کٹاس راج کو تباہی و بربادی کے دھانے پر پہنچا دیا ہے اور اب اسکی تباہ کاریاں پورے علاقے کو لپیٹ میں لے رہی ہیں جو کہ ناقابل برداشت ہو چکا ہے۔اس سلسے میں احتجاجی تحریک کے معاملات طے کرنے بارے ایک اجلاس منعقد کیا گیا جس میں احساس وادی کہون ویلفیئر کے چیئرمین ملک اشفاق قادر ، ممتاز فاونڈیشن کے چیرمین ممتاز منگوال ،سیاسی سماجی شخصیت حاجی ملک محمد یوسف ، ملک فضل محمد صدر امن کمیٹی ، سابق نائب ناظم ملک امیر وعولہ ، ملک اشرف تترال، ملک احسان محمود ، ملک ماجد دوالمیال،چوآ فرنٹ فلاحی تنظیم کے صدر ملک اصغر،ملک راحیل منہاج القرآن ، ملک صابر ،راجہ عمران موہڑہ راجگان،ملک آفتاب عرف ٹیڈی،اور علاقہ بھر سے آئے ہوئے بڑی تعداد میں معززین علاقہ نے شرکت کی اور اپنا موقف اور تجاویز پیش کی ،یہ اجلاس بارش کا پہلا قطرہ ہے سیاسی و سماجی کارکنان صحافی حضرات و شرکا اجلاس کی عظمت کو سلام آپ لوگ ایک بہترین مقصد کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں پانی کی کمی گردو غبار ،فضائی آلودگی جنگلی حیات کی تباہی ہماری موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لیے بھیانک ثابت ہوگی ہم سب کو بلاتفریق سیاسی و سماجی وابستگیوں کے اس ایشو پر آواز اٹھانی ہو رہی ہے ۔مانا کے یہ ایک طاقتور سرمایہ دار مافیا ہے۔لیکن عوامی سمندر کے آگے بند باندھنا بھی ہمیشہ ممکن نہیں رہتا ہمیں اس مافیا کو لگام ڈالنی ہوگی اگر ہم سب اتفاق رائے سے یک جان ہو کر آگے بڑھیں تو یقینا فطرت کے ہوچکے نقصانات کا ازالہ کرانے میں کامیابی ہمارا مقدر ہوگی،میٹنگ میں چوآ فرنٹ فلاحی تنظیم کا بالخصوص ذکر کیا گیا ،جسے سن کراطمینان قلب محسوس ہوا
مطمئن ہوں کہ مْجھے یاد رکھے گی دْنیا
جب بھی اس شہر کی تاریخِ وفا لکّھے گی
اس کوچے کے در و دیوار مجھے سوچیں گے
وسعتِ دشت مجھے آبلہ پا لکھّے گی
چوآ فرنٹ فلاحی تنظیم ایک عظیم مشن کا نام تھا ہے اور رہے گا ۔ جس کا مشن سیاسی و سماجی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر چوآسیدن شاہ کے اجتماعی عوامی مفاد کے لیے آواز بلند کرنا قرار پایا تھا آج بھی سماجی شخصیات چوآ فرنٹ کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہیں جس کا واضع ثبوت کل چوآ سیدن شاہ میں ہونے والے اجلاس میں سیاسی و سماجی شخصیات حاجی ملک یوسف صاحب ۔ملک فضل صاحب ۔ملک احسان صاحب نے چوآ فرنٹ فلاحی تنظیم کے بارے میں مستحسن کلمات کا اظہار کیا ۔ مقامی مجلس عاملہ سے درخواست ہے کہ اپنی میٹنگ بلائیں اور اس حساس ایشو پر مشاورت کریں ۔ اگرچہ ایسے احتجاج درپردہ محرکات کی وجہ سے باعث تحفظات ہوتے ہیں لیکن ہم سب کو حسن ظن رکھتے ہوئے علاقے کے ماحول و قدرتی وسائل کی تباہی کے خلاف اور اپنی موجودہ و آنے والی نسلوں کے تحفظ کے لیے اس احتجاج کی اخلاقی حمایت کرنا ہوگی ۔لیکن کسی تخریبی کاروائی یا ایسی منفی سرگرمی سے گریز کرنا ہوگا جس سے تنظیم افراد یا علاقے کے لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہو ۔اللہ تعالی بابا یوسف سمیت تمام شرکا کو اچھی صحت کےساتھ لمبی عمر عطا فرمائے ہم ہر اچھے اقدام میں آپ کے ساتھ ہیں اس کے ساتھ ہم چوآ فرنٹ فلاحی تنظیم کے صدر ملک اصغر صاحب کے بیان و موقف کی مکمل تائید و حمایت کرتے ہیں اور دائمے درمے سخنے ہر مدد کی یقین دہانی کراتے ہیں اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین ۔
دعاگو ۔ شہزاد حیدر گجر نمبردار چوآ سیدن شاہ
... See MoreSee Less

View on Facebook

کسی بھی ادارے ۔ مقتدر شخصیت یا تنظیم کے احکامات اس وقت زیادہ موثر ثابت ہوتے ہیں جب عام عوام ۔ سول سوسائٹی بالخصوص نوجوان نسل کسی احسن اقدام کی عمل درامدگی کے لیے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوں
میونسپل کمیٹی کی جانب سے شہر میں بھاری ٹریفک کے داخلے پر معین اوقات کے دوران پابندی کے احکامات جاری کیے گئے ہیں سردست بہت ہی اچھا اقدام ہے مکمل حمایت و تائید کی جاتی ہے ۔لیکن اس پر مکمل عمل درآمد چوآ کلرکہار بائی پاس روڈ کی تکمیل کے بعد ہی ممکن ہوسکے گا بہرحال قابل تحسین اقدام ہے عملہ ٹریفک بھی اس پیغام کو پھیلانے میں مدد کرے آہستہ آہستہ اس کی بازگشت ہیوی ٹریفک والوں تک پہنچ جائے گی اور مستقبل قریب میں کوئی یہ نہیں کہہ سکے گا کے مجھے علم نہیں تھا سول سوسائٹی کے تعاون کے بغیر احکامات پر عمل درآمد کرانا مشکل ہوتا ہے ۔ ہر جگہ سرکاری اہلکار موجود نہیں رہ سکتے ہم عوام اور بالخصوص نوجوان نسل کو بھی آگے بڑھ کر میونسپل کمیٹی کے اس اقدام برائے تحفظ شہریاں کی مکمل حمایت و تائید کرنی ہوگی ۔ سول سوسائٹی اور ادارے مل کر ہی ایک محفوظ معاشرے کا قیام یقینی بنا سکتے ہیں ۔تاوقتیکہ دوسرا بائی پاس تکمیل کو پہنچے تب تک نرمی کے ساتھ برتاو کیا جائے جب دوسرا بائی پاس مکمل ہو جائے تو پھر سختی کے ساتھ بلاتفریق اس حکم کی پابندی کروائی جائے اللہ تعالی ہم سب کو اجتماعی معاملات پر مثبت سوچ کے ساتھ کردار ادا کرنے کی ہمت عطا فرمائے آمین۔ از قلم شہزاد حیدر گجر نمبردار چوآ سیدن شاہ
... See MoreSee Less

View on Facebook

بہن بیٹیوں کی عصمت دری پہ سیاست کرنا کمینگی کی انتہا ہے ۔ظالم کا تعلق چاہے کسی بھی سیاسی یا مذہبی جماعت سے ہو لعین ہی ہوتا ہے ۔لوگوں کے پاس معلومات کم ہوتی ہیں سنی سنائی بات آگے پہنچا دیتے ہیں جب تک اصلیت سامنے آتی ہے تب تک وائرل ہو جاتی ہے اور جھوٹی خبر اور سچی خبر کے درمیان فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے اور ابہام پیدا ہو جاتا ہے ۔پھر لوگ اداروں کی کارکردگی پر انگلی اٹھانے لگتے ہیں۔ کوہاٹ kpk میں اسما قتل کیس میں ہونے والی درندگی و بربریت کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے یہ کیس کافی پیچیدہ ہے ۔ قاتل اور مقتول کی رشتہ داری کی خبر بھی موجود ہے اور نامزد ملزم کی ایک سال سے بیرون ملک موجودگی کی اطلاع بھی گردش میں ہے اگرچہ مقتولہ کا نزعی بیان بھی موجود ہے اور اس کے بعد مقامی ایم این اے شہر یار آفریدی کا بیان سننے کو ملا اس حساب سے معاملہ گھمبیر ہے ۔ ہم امید کرتے ہیں کے kpk پولیس اس مسلے کو بخوبی انجام تک پہنچائے گی اور ملزمان کو گرفت میں لا کر قرار واقعی سزا دی جائے گی۔ ۔(* واللہ و عالم ) اللہ تعالی مقتولہ کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین ... See MoreSee Less

View on Facebook

(چوآ نیوز)ایم ایس و انتظامیہ تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال متوجہ ہوں
باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اسپتال میں موجود ایمبولینس کا ایک ڈرائیور موجود ہے جو دن کو ڈیوٹی کرتا ہے رات کو اسپتال کے پاس ڈرائیور نہ ہے جو رات کو ڈیوٹی سر انجام دے سکے آیا وہ چھٹی پہ ہے ،معاملہ کیا ہے ،اعلی حکام کے نوٹس میں یہ بات کیوں نہیں دی گئی ،متعلقہ حکام سے اصلاح و احوال کا مطالبہ
... See MoreSee Less

(چوآ نیوز)ایم ایس و انتظامیہ تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال متوجہ ہوں
باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اسپتال میں موجود ایمبولینس کا ایک ڈرائیور موجود ہے جو دن کو ڈیوٹی کرتا ہے رات کو اسپتال کے پاس ڈرائیور نہ ہے جو رات کو ڈیوٹی سر انجام دے سکے آیا وہ چھٹی پہ ہے ،معاملہ کیا ہے ،اعلی حکام کے نوٹس میں یہ بات کیوں نہیں دی گئی ،متعلقہ حکام سے اصلاح و احوال کا مطالبہ
... See MoreSee Less

(چوآ سیدن شاہ )چوآ فرنٹ فلاحی تنظیم کے زیر اہتمام قصور میں ہونے والے ظلم و بربریت کے خلاف پرامن احتجاجی ریلی نکالی گئی ۔سول سوسائٹی و سماجی و صحافتی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کرکے زمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیا پولیس و دیگر انتظامیہ کے تعاون پر مشکور ہیں ۔ اس ریلی سے قاری ثقلین صاحب ۔ حاجی ملک یوسف صاحب ۔ ملک اصغر صدر چوآ فرنٹ ۔منیر احمد بانی تنظیم اور دیگر مقررین نے خطاب کیا ۔ حکومت وقت سے مطالبہ کیا گیا کہ قاتلوں کو بے نقاب کرتے ہوئے فوری گرفتار کیا جائے اور جلد از جلد سرعام عبرتناک سزا دیتے ہوئے انجام تک پہنچایا جائے ۔ اس کے ساتھ ہی معاشرتی بیداری اور ہماری اخلاقی تربیت و ذمہ داریوں پر بھی گفتگو کی گئی ۔ احتجاج مہذب معاشرے میں عوام کا جمہوری حق ہے ۔ سول سوسائٹی کی بیداری اور معاشرتئ و اخلاقی جرائم کے خلاف متحرک ہونا خوش آئند ہے ۔جہاں شر ہے، وہاں خَیر بھی ہے، جہاں چند درندے ہیں، وہاں میں اور آپ بھی ہیں، ڈھارس بندھائیئے۔ اور حوصلہ افزائی کیجئے ان سب کی، جنہوں نے اس ظلم کےخلاف آواز اُٹھائی اور ،اپنی تئیں پُوری کوشش کی کہ، اس ظلم کی مذمت اور مُعاشرے کو فعال کیا جائے۔اور اگر مجمُوعی طور پر دیکھیں تو، صُورتِ حال،حوصلہ افزاء بھی ہے۔وہ اس لیئے کہ، پاکستان اور دُنیا بھر میں، جہاں جہاں پاکستانی ہیں، سب نے اپنے اپنے ،مقام و معیار اور حالات کے مطابق ،اس کی بھرپُور مذمت کی اور حالات کو بدلنے کی فِکر کو اجاگر کیا ہے۔ ایسی سوچ ہی تبدیلیوں کا پیشِ خیمہ بنتی ہیں اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو ۔الله ہمیں استقامت دے ! آمین ثم آمین۔ دعاگو شہزاد حیدر گجر نمبردار چوآ سیدن شاہ ... See MoreSee Less

عفت وعصمت کے لٹیرے اور ہم عوام ✍️از قلم شہزاد حیدر گجر
باعث فخر ہوا ہے رہزن و قاتل ہونا
گھر اجڑتے تھے اس الزام سے پہلے پہلے
قصور میں سات سالہ بچی کو اغوا کرکے ریپ کرنے کے بعد قتل کر دیا گیا۔۔۔ بندہ کوئی الفاظ کیسے لکھ پائے اس ظلم و بر بریت پر، ہمارے معاشرے میں ایسے واقعات کا ایک تسلسل سے وقوع پذیر ہونا اس معاشرے کی اخلاقی دینی اور سماجی حیثیت پر ایک سوالیہ نشان ہے، پاکستان کی تاریخ میں ایک اور اداس دن ۔بہر کیف خادم اعلی صاحب کے ہیلی کاپٹر کا تیل پانی چیک کیا جائے ایک اور دورے کا نادر موقع بن گیا ہے ۔ 5 لاکھ روپے ۔ چند سلفیاں ۔ دو چار معطلیاں ۔ مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے دعوے اور پھر خاموشی ریاست کی اتنی ہی ذمہ داری بنتی ہے ہور کم وی تے کرنے ہوندن ۔قصور میں معصوم بچی کے ساتھ زیادتی کے بعد قتل کی واردات ۔ جب تک ایسے واقعات میں ملوث درندوں کو سرعام عبرت ناک سزا نہ دی جائے گی ایسے واقعات کا سدباب ناممکن ہے۔*(خدا کے لئے اپنے بچوں کو جنسی تعلیم دیں اور ایسے حالات میں کیسے بچا جائے مکمل رہنمائی کریں۔ہم شرم میں بچوں کو کچھ نہیں بتاتے جس سے معصوم پھول ان درندوں کی باتوں میں آجاتے ہیں)۔ ایک کے بعد دُوسرا۔۔*نو سالہ طیبہ یاد ہے؟چھے سالہ طوبیٰ یاد ہو..؟ آٹھ سالہ عمران بھی یاد نہیں..؟ پھر ہم سات سالہ زینب کو کہاں یاد رکھو گے کہاں انصاف دلاؤ گے.. ہم جھوٹے لوگ.. بس اب ماتم کےلیے اگلے کسی ایسے واقعے کا انتظار کرو..! کون سمجھے ؟کون محسُوس کرے؟کون عدل کرے ؟کون انصاف کرے؟کون درد بانٹے؟ کون راستہ روکے؟کون نشاندہی کرے ؟ کون پہلا قطرہ بنے ؟ کون سمجھے یہ میری بیٹی ہے؟کون سوچے یہ پاکستان کی بیٹی ہے؟کون سوچے یہ انسانیت کی تذلیل ہے؟آج شام تک بُھول جائیں گے۔ایسےسانحات پہ،ہمارےوکلاء،اساتذہ اور،انسانی حقوق کی تنظیمیں کیوں ہڑتال نہیں کرتی؟ پرامن،قلم چھوڑہڑتال،تاوقتیکہ،مجرموں کوسزا نہ ملے۔اگر والدین ، مُعاشرہ، اور سماجی حیثیت کے حامل شہری کم از کم،ظالم کا سوشل بائیکاٹ ہی کریں،توبھی اک بڑی تبدیلی آ سکتی ہے۔یہاں تو ظالموں کو ہار پہنائے جاتے ہیں قاتلوں کا استقبال کیا جاتا ہے ۔ انسان سے نفرت نہ سہی جرم سے نفرت تو بنتی ہے جِتناکُہرام سوشل میڈیا پہ ہے،اس کا سوواں حصہ بھی عملاً ہو تو،حالات مختلف ہُوں۔مگر ہمیں احتجاج کرنے کے طریقے بھی سیکھنے کی ضرورت ہے۔ہم احتجاج کرتے ہُوئے بھی اپنا،مالی، جانی، اور سرکاری نقصان کرتے ہیں،اور حدود سے تجاوز کرتے ہیں۔ مربُوط اورمنظّم اسلوب نہیں اپناتے۔حضور یہ وہ علاقے ہیں، جہاں سے پِھر بھی کسی حد تک، آواز نِکل آتی ہے، ظلم کم از کم ،منظرِ عام پہ لایا جاتا ہے،لیکن اس ریاست کی جاگیروں میں رہنے والوں کی تو، آواز بھی نہیں نکلنے دی جاتی،مزارعوں، ہاریوں اور دیگر بے بس لاچاروں کی بیٹیوں کی تقدیروں کے فیصلے بھی،وڈیرہ سائیں ، اس کے چہیتے یا وڈیرے کی اولادیں کرتی ہیں۔
مجمُوعی طور پہ، جو کیس رپورٹ ہیں، یہ کُل کا عُشرِ عشیر بھی نہیں ہیں۔زبانیں کاٹ دینے تک کی دھمکیاں ہوتی ہیں، اور پِھر ، لوگ لا پتہ بھی ہو جاتے ہیں۔ جو کچھ کیمرہ دکھاتا ہے۔ یہ سارا کُچھ نہیں ہے۔تمام دوستوں سے گزارش ہے کہ ملک گیر مہم چلائیں کہ آئے دن معصوم بچوں کے ساتھ زیادتی کے بعد بہیمانہ انداز میں قتل کرنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے اور انہیں سارے لوگوں کے سامنے سنگسار کیا جائے۔یا اذیت ناک حالت میں نشان عبرت بنا دیا جائے تاکہ کسی کو بھی ایسا خیال بھی آئے تو اس کی روح کانپ جائے۔جاگو میرے دوستو ہمارے بچے اسی طرح کی بربریت کے لئے نہیں۔تمام افراد کا معاشرتی فرض ہے کہ اپنے آپ کو اس ملک گیر احتجاج کا حصہ بنائیں نہیں تو ہمارے بچے اسی طرح مرتے رہیں گے
سات سالہ بچی کا اغوا،ریپ ، قتل ، اخلاقی گراوٹ ،معاشرتی بے حسی ،
جزا سزا پر عمل درآمد نہ ہونا ،قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نااہلی ،
خادم اعلی کا نوٹس،ہیلی کاپٹر کی چیکنگ ،ہنگامی دورہ ،5 لاکھ روپے چند سلفیاں، افسران کی سرزنش و معطلی ، قاتلوں کو عبرت ناک سزا تک چین سے نہ بیٹھنے کا عزم ،فوجداری قانون کے سقم اور انصاف کا حصول ناممکن ،کل اس وقوعہ کو خاندانی دشمنی یا زمین جائیداد کے تنازعے سے جوڑ کر گلو خلاصی کر لی جائے گی ،اور ہم کسی اور ایشو پر من ہلکا کرنے لگ جائیں گے ،ایہ کہیڑا پہلی وار ہویا ۔۔۔زینب بیٹا ہم شرمندہ ہیں
✍️حاصل تحریر ،؛👈 ہمیں ضرورت ہے،مربوط فیملی سسٹم کی،اک دوسرے سے باخبر رہنےکی،جرم کی سرکُوبی کےلیے ،زندہ ضمیری کی،اپنی اولادوں کی انسانی بنیادوں پہ تربیت کی۔ اردگرد کے حالات پر نظر رکھنے کی ۔ مظلوم کا ساتھ دینے اور ظالم کا معاشی بایئکاٹ کرنے کی ۔ حکمرانوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے باز پرس کے ساتھ اپنی اخلاقی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی تب جاکر یہ معاشرہ امن کا گہوارہ بن سکے گا
واہی نوں کھاونڑ واڑ آ گئی اے مندری کھا گئی اے نگ
پھلاں کنڈے زخمی کیتے روں دے ہتھ وچ اگ
کونڑ نبھاوے لجاں ایتھے کونڑ وٹاوئے پگ
چولہیاں اتے رزق کھوا کے لوکی لیندن نے ٹھگ
#JusticForZainab#
... See MoreSee Less

View on Facebook

سیاست ۔۔۔۔۔؟؟؟؟
اکثر محفلوں میں بحث مباحثہ کے دوران جب میں نوجوانوں کو موجودہ سیاسی و سماجی نظام سے دلبرداشتہ و نالاں دیکھتا ہوں تو ان سے کہتا ہوں کہ آپ عملی سیاست میں حصہ کیوں نہیں لیتے تو جواب ملتا ہے کہ چھڈو جی سیاست چوں اساں کی لینڑاں ایہ ساڈے وس دا کم نئیں ایدے وچ سوائے گندگی دے ہور کجھ وی نئیں جب میں ان دوستوں کی یہ باتیں سنتا ہوں تو انتہائی رنجیدہ ہوتا ہوں کہ سیاست کو ہم نے اجتماعی طور پر کتنا پراگندہ کردیا ہے کہ عام آدمی اس سے کوسوں دور بھاگتا ہے ، میرے بھائیوں سیاست بری چیز نہیں ہے اگر اصول کے ساتھ سیاست کی جائے تو یہ چادر اور چار دیواری کا تقدس ہے ، ماوں بہنوں بیٹیوں کی عزت ہے یہ باپ دادا کی پگڑی کی محافظ ہے ، یہ سماج میں آپ کے جائز حقوق کی پہرہ دار ہے ،یہ معاشرے میں بنیادی ضرورتوں کی فراہمی میں مددگار ثابت ہوتی ہے ،لیکن ہمارے معاشرے میں سیاست ظلم و جبر دھونس دھاندلی بدمعاشی سینہ زوری کی علامت سمجھی جاتی ہے اس رویے کو ہم سب نے مل کر درست کرنا ہے ، اسلام میں سیاست اس فعل کو کہتے ہیں جس کے انجام دینے سے لوگ اصلاح سے قریب اور فساد سے دورہوجائیں۔ اہل مغرب فن حکومت کو سیاست کہتے ہیں۔ امور مملکت کا نظم ونسق برقرار رکھنے والوں کوسیاستدان کہا جاتا ہےلغت میں سیاست کے معنی ٰ: حکومت چلانا اور لوگوں کی امر و نہی کے ذریعہ اصلاح کرنا ہے۔اصطلاح میں : فن حکومت اور لوگوں کو اصلاح سے قریب اور فساد سے دور رکھنے کو سیاست کہتے ہیں۔قرآن میں سیاست کے معنی ٰ : حاکم کا لوگوں کے درمیان میں حق کے ساتھ فیصلہ کرنا، معاشرے کو ظلم و ستم سے نجات دینا ، امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرنا اور رشوت وغیرہ کو ممنوع قرار دینا ہے ۔
حدیث میں سیاست کے معنی : عدل و انصاف اور تعلیم و تربیت کے ہیں۔علمأ کی نظر میں :رسول اللہ ﷺ اور خلفائے راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین کی سیرت و روش ،استعمار سے جنگ ،مفاصد سے روکنا ،نصیحت کرنا سیاست ہے۔*فلاسفہ کی نظر میں ،فلاسفہ کے نزدیک فن حکومت، اجتماعی زندگی کا سلیقہ،صحیح اخلاق کی ترویج وغیرہ سیاست ہے۔*سیاست ایک ایسا عمل ہے جس سے لوگوں کی جماعتیں تصفیہ کرتی ہیں. باالفاظِ دیگر، سیاست ایک طریقۂ کار ہے جس کے ذریعے عوامی حلقوں کے مابین مسائل پر بحث یا کارروائی ہوتی ہے اور ریاستی فیصلے عوامی رائے عامہ کی روشنی میں لئے جاتے ہیں۔سیاست کئی طرح کی ہو سکتی ہے، مثال کے طور پر:*اقتدار کے حصول کے لئے*حقوق کے حصول کے لئے*مذہبی اقدار کے تحفظ کے لئے*جمہوری روایات کے تحفظ کے لئے*ذاتی مفادات کے تحفظ کے لئے ۔پاکستان کی سیاست عرصہ دراز سے فوجی آمریت کے ہاتھوں میں رہی ہے۔ جمہوری دور بھی سیاست سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے کھیل کا نام سمجھی جاتی ہے جس میں غریب صرف نعرے بازی اور ووٹ ڈالنے کی حد تک شریک ہوتا ہے۔ کسی شریف آدمی کا سیاست میں حصہ لینا انوکھی بات سمجھی جاتی ہے۔میں آپ سے کہتا ہوں کہ یار آپ لعن طعن کرنے میں تف اڑانے میں سب سے آگے ہوتے ہو لیکن جب اس معاشرے کی درستگی کی بات آئے تو آپ کنی کتراتے ہو جب آپ جیسے پڑھے لکھے باشعور اور درد مند لوگ اس سیاست میں دلچسپی نہیں لیں گے تو معاشرہ کیسے درست ہوگا پھر دوسری جانب سرمایہ داروں ،مفاد پرستوں ،اقربا پروروں ،کمیشن خوروں ،ناجائز فروشوں کی تو چاندی ہو جاتی ہے جب آپ جیسے باشعور لوگ اپنی ذمہ داریوں سے صرف نظر کرتے ہیں کسی دانشور کے بقول جب آپ سیاست کا چلن چھوڑ دیں گے تو آپ سے کم تر (معاشرے کے ناپسندیدہ ) لوگ اٹھ کر آپ پر حکومت کرنے لگیں گے ، خالی کُڑھنے اور دل جلانے سے بات نہیں بنے گی آگے بڑھو اور معاشرے کی بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کرو تاکہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو بہتر مستقبل اور محفوظ معاشرہ دے کر جائیں جہاں عوام کے بنیادی حقوق محفوظ ہوں جہاں چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال نہ ہو،جہاں غریب کی عزت محفوظ ہو ، مظلوم کی پشت پناہی اور ظالم کا ہاتھ روکنا فرض سمجھا جائے ،جہاں پگڑی اچھال مہم کی حوصلہ شکنی ہو ،یہ سب تب ممکن ہو گا جب نوجوان نسل اپنی ذمہ داریوں کو سمجھے گی اور موثر کردار ادا کرنے کی جدوجہد کرے گی ، سوشل میڈیا پر دل کی بھڑاس نکالتے رہنے سے من تو ہلکا ہوسکتا ہے من کی مراد نہیں مل سکتی ،اگر خود کجھ نہوہ کر سکدے تے وت سیاست آں گندا آکھنڑاں چھوڑ دئیو ایہ تاں گندی اے جو تہاڈے جہے صاف لوگ اس توں دور اہن ✍️از قلم شہزاد حیدر گجر نمبردار چوآسیدن شاہ
... See MoreSee Less

View on Facebook

Choanews added 3 new photos.

ڈاکٹر شیر باز چوہدری ایم ایس مائینزلیبر ویلفیئر ہسپتال چوآسیدن شاہ تعینات ہوگئے یقینا ڈاکٹر شیر باز صاحب اس کلیدی عہدے پر تعینات ہوکر دُکھی انسانیت کی بھرپور خدمت کا مشن جاری رکھیں گے۔ اس کے ساتھ جناب ڈاکٹر مختار احمد مرزا صاحب ایم ایس اپنے عہدے سے سبکدوش ہوگئے ڈاکٹر مختار صاحب نے اپنی سروس کا ایک بڑا عرصہ چوآسیدن شاہ میں دُکھی انسانیت کی خدمت میں گزارا ہے ،علاقہ چوآسیدن شاہ کے عوام ڈاکٹر مختار صاحب کی خدمات ہمیشہ یاد رکھے گی۔معروف کاروباری شخصیت ہارون غنی چیمہ صاحب کی کاوشوں سے مائنز اسپتال کی صورتحال انتہائی تسلی بخش حیثیت اختیار کر چکی ہے
... See MoreSee Less

View on Facebook