شاہد کمپیوٹر اکیڈمی پر e-skill center کے تعاون سے فری کمپیوٹر کورس کا اجراء کیا جا رہا ہے۔
مدت کورس ۔ ا ماہ
عمر کی حد 18 سے 22 سال

محدود نشستوں کے لیے رجسٹریشن جاری ہے .
برائے رابطہ۔ شاہد کمپیوٹر اکیڈمی ڈلوال روڈ چوآ سیدن شاہ. 03325694174
... See MoreSee Less

آ رل آ سنگت دے قافلے وچ اگھاں شاہ جانڑے تے راہ جانڑے
*چوآسیدن شاہ کے نوجوانوں کا دیرینہ مطالبہ پورا ہونے جارہا ہے ۔ سٹیڈیم کی تعمیر و تکمیل کی صورت میں ہماری نئی نسل کو کھیل کود کے لیے ایک بہترین سہولت میسر آئے گی ۔ زمین داران چوآسیدن شاہ کے ایثار کو سلام جنہوں نے اس پراجیکٹ کے لیے بیش قیمت اراضی حسب روایت بلا معاوضہ فراہم کی ہے ۔ اللہ تعالی اس پراجیکٹ کو بخیر و خوبی تکمیل تک پہنچائے ۔آمین
... See MoreSee Less

View on Facebook

یقینا احتیاط پچھتاوے سے بہتر ہے ،(S,H,G)
یہ کیا کام دست اجل کو سونپا ہے مشیت نے
چمن سے توڑنا پھول اور ویرانے میں رکھ دینا
گزشتہ دنوں ایک المناک حادثہ پیش آیا ہے چکوال کے ایک نواحی گاوں میں علی رضا نامی یہ پھول بے احتیاطی کی بھینٹ چڑھ گیا ،اگرچہ اس بچے کے ماں باپ دونوں ڈاکٹر ہیں پڑھی لکھی فیملی ہے لیکن بس تقدیر پر کس کا زور چلتا ہے مقدر لکھنے والے نے ان والدین کو اس آزمائش کے لیے چن لیا ۔ ہوا کچھ یوں کے ماں بچوں کو ساتھ لے کر میکے والدین سے ملنے آئی تھی ۔ گھر کی ملازمہ نے لیڑین صاف کرنے والا تیزاب پیپسی کی بوتل میں ڈال کر کہیں رکھ دیا ۔ بچہ پیپسی سمجھ کر پی گیا تیزاب نے اپنا کام دکھایا اور اس بچے کا اندرونی نظام جلا دیا چند دن زیر علاج رہ کر چل بسا ۔ ہیلتھ اینڈ سیفٹی کا کوئی تصور جو نہیں ہمارے معاشرے میں ۔ ابھی پچھلے دنوں ایک بچہ کنویں میں گر کر جان بحق ہوا ، ہم سب کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہوں گی اور سیفٹی کو یقینی بنانا ہوگا اور نقصان دہ اشیا زہریلی ادویات ، تیزاب ، چوہےمار گولیاں یا زہریلے محلول کھانے پینے کی اشیا سےمتشابہت رکھنے والی بوتلوں جار وغیرہ میں رکھنے سے پرہیز کریں اور ایسی تمام اشیا انتہائی نگہداشت میں بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں ہماری زرا سی بے احتیاطی کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے ،اللہ تعالی ہم سب کو ان آزمائشوں سے محفوظ رکھے اس تحریر کو پڑھ کر اگر کسی ایک شخص نے بھی احتیاطی تدابیر کو یقینی بنانے کا عہد کرلیا تو میں سمجھوں گا میری محنت رائیگاں نہیں گی اللہ تعالی ہم سب والدین کو ایسی آزمائشوں سے بچائے ،اور اس پھول کے صدقے اس کے ماں باپ کو بہتر نعم البدل عطا فرمائے آمین
از قلم شہزاد حیدر گجر نمبردار چوآسیدن شاہ
آمین
... See MoreSee Less

View on Facebook

چکوال کوڈی اہنے 23 مارچ آلے دیہاڑے
یاد آیا چوآ وی کوئی میونسپل کمیٹی دی میٹنگ ناہی جشن شیرازی دے بارے وچ کے بنڑیا کوئی خیر خبر دئیو آ
... See MoreSee Less

View on Facebook

پوسٹ برائے مفاد عامہ
حکومت پنجاب نے ہیپا ٹائٹس جیسے موزی مرض سے نبٹنے کے لیے علاج معالجہ کی تمام سہولیات ایک ہی چھت کے نیچے مہیا کر رکھی ہیں ۔ تشخیص مرض کے لیے مہنگے ٹیسٹوں سے لے کر ویکسین سمیت مکمل علاج مفت
مزید معلومات کے لیے اس نمبر پر 03465770161 ملک کاشف سے رابطہ کرلیں میرے اس بھائیوں جیسے دوست کے عزیز کا علاج اسی سینٹر سے ہورہا ہے اللہ تعالی تمام مریضوں کو شفائے کاملہ عطا فرمائے آمین ثم آمین جزاک اللہ خیر ۔ دعاگو شہزاد حیدر گجر نمبردار چوآ سیدن شاہ
... See MoreSee Less

View on Facebook

ریبیز Rabies یا باولے کتے کا کاٹنا موت ہے!
ریبیز سے ہر سال تقریبا 55 ہزار لوگ مر جاتے ہیں۔
کتا اگر آپ کو کاٹتا ہے تو اس سوچ بچار میں وقت ضائع مت کیجیے کہ وہ پاگل تھا یا گھریلو تھا، پہلی فرصت میں قریبی سرکاری ہسپتال جائیے۔ وہاں ایمرجیسنی والے اس صورت حال کو پرائیویٹ ڈاکٹروں سے سو گنا زیادہ بہتر طریقے سے جانتے ہیں، روزانہ ایسے مریض دیکھتے ہیں۔ مرچیں لگانا، سکہ باندھنا، تعویز بندھوانا، یہ سب تکے لگانے جیسا ہے۔ اگر کتا پاگل نہیں تھا تو یہ سب ٹوٹکے کام کریں گے، اگر پاگل تھا تو موت یقینی ہے!
ہسپتال دور ہے تو صابن اور بہتے پانی سے دس پندرہ منٹ تک اچھی طرح زخم کو دھوئیے اس کے بعد پٹی مت باندھیں۔ اسے کھلا رہنے دیجیے اور ہسپتال چلے جائیے۔ چودہ ٹیکوں کا زمانہ گزر گیا۔ ایک مہینے میں پانچ ٹیکوں (شیڈول: 0-3-7-14-28) کا کورس ہو گا، بہت سی کمپنیوں کی بنائی سیل کلچرڈ ویکسینز مارکیٹ سے مل سکتی ہیں۔ جو چیز یاد رکھنے کی ہے وہ یہ کہ کسی اچھی فارمیسی سے ویکسین خریدی جائے کیوں کہ اس کا اثر تب ہی بہتر ہو گا جب یہ مسلسل کولڈ چین میں رہے گی۔ کوئی بھی ویکسین (سوائے پولیو اورل کے) بننے سے لے کر دوکان پر آنے تک دو سے آٹھ ڈگری کا ٹمپریچر مانگتی ہے، جب بھی یہ سلسلہ ٹوٹے گا، بہرحال اس کا اثر ویکسین کی کوالٹی پر ہو گا۔ ویکسین کے ساتھ ساتھ ریبیز امیونوگلوبیولین RIG لگوانے بھی اکثر ضروری ہوتے ہیں۔
اگر کتا آپ کا اپنا پالتو نہیں ہے تو کوئی رسک لینے سے بہتر ہے کہ ریبیز امیونوگلوبیولین RIG ضرور لگوائیں۔ اسی طرح کتا جتنا سر کے قریب کاٹے گا، وائرس اتنی تیزی سے دماغ تک جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔ پاؤں پر یا ٹانگ پر کاٹا ہے تب بھی جلدی ہسپتال جانا ضروری ہے لیکن کندھے یا گردن والے معاملے میں بے احتیاطی ہرگز نہیں ہونی چاہئیے، فوری طور پر ہسپتال کا رخ کرنا اور ویکسین کے ساتھ ساتھ ریبیز امیونوگلوبیولین RIG (یہ بھی کئی کمپنیوں کے موجود ہیں) لگوانا بہتر ہے۔ کتے کا پنجہ لگے، کوئی خراش ہو جائے، یا آپ کے کسی زخمی حصے کو کتا چاٹ جائے، ریبیز کا ٹیکہ لگوا لیجیے، احتیاط لازم ہے۔
اگر کتا آپ کے یہاں پالتو ہے، یا آپ جانوروں کے ڈاکٹر ہیں، یا آپ فوج میں ہیں، یا دیہی علاقے کی پولیس میں ہیں، یا کسی بھی ایسی جگہ ہیں جہاں دوران ملازمت آپ کھلے میدانوں کا رخ کر سکتے ہیں، یا کتوں والے کسی بھی علاقے میں جانا پڑ سکتا ہے تو آپ ریبیز سے بچاؤ کا حفاظتی کورس بھی کر سکتے ہیں۔
ریبیز سامنے آنے کے بعد پوری دنیا میں آج تک پانچ سے زیادہ لوگ بچ نہیں سکے۔ وہ بھی دس بارہ سال پہلے ایک تجربہ شروع کیا گیا تھا جس میں مریضوں کو مصنوعی طریقے سے کئی ماہ تک بے ہوش رکھا گیا، انہیں مختلف دوائیں دی گئیں اور آہستہ آہستہ جب وائرس ختم ہو گیا تب ہوش میں لایا گیا۔ لیکن یہ طریقہ بھی کئی سو میں سے صرف پانچ لوگ بچا سکا۔ ان پانچ کے بارے میں بھی ڈاکٹر یہ خیال کرتے ہیں کہ ان میں والدین سے ریبیز کے خلاف قوت مدافعت آئی ہو گی۔
بلی، گائے، بھینس، گھوڑا، گدھا، چمگادڑ، ہر وہ جانور جو دودھ پلانے والا ہے، وہ ریبیز کا شکار ہو سکتا ہے۔ پاگل کتا جب انہیں کاٹتا ہے تو وہ اپنے جراثیم ان میں منتقل کر دیتا ہے۔ وہی جراثیم انسانوں میں منتقل ہو سکتے ہیں اگر یہ جانور کاٹ لیں۔ یہ وائرس متاثرہ جانور کے لعاب میں بھی پایا جاتا ہے۔
صرف شہر کراچی میں ہر سال تیس ہزار کتے کاٹے کے مریض مختلف ہسپتالوں میں آتے ہیں۔ اندازہ کر لیجے باقی ملک میں کیا صورت حال ہو گی۔ پالتو کتوں کی ویکسینیشن بھی اس سے بچاؤ کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
پبلک سروس میسج (منقول)
... See MoreSee Less

View on Facebook

14 فروری بطور یوم حیا
جب کبھی غیرت انسان کا سوال آتا ہے
بنت زہرہ تیرے پردے کا خیال آتا ہے
اس تحریر کو پڑھ کر اگر کسی ایک بندے نے بھی اپنے گھریلو ماحول کے بارے میں صرف سوچ بھی لیا تو میں سمجھوں گا میری محنت رائیگاں نہیں گئی ۔سیانڑے آہدن آپنڑاں گھر سوگھا رکھو تے چور کساں نہ صدو
اگر آپ اپنے اندر حیا نہیں رکھتے۔ تو پھر آپ آزاد ہو جو چاہے کرو۔ ویلینٹائن ڈے یا اس جیسی فضول رسموں سے پاکستان کو بچانے کےلیئےاپنا کردار ادا کیجئے۔یہ رسم سراسر بے حیائی ہے ۔ نکاح جیسے جائز رشتوں کو اپنائیں جس سے پیار کرتے ہیں اسے اپنی شریک حیات بنائیں ۔ ہوس کی تعمیل میں گزارے چند لمحے محبت نہیں ہوتے ۔اللہ پاک نہایت باحیا اور ستر پوش (عیب پوش) ہے اللہ پاک حیا اور پردہ کو پسند فرماتا ہے۔ہمیں اپنے گھر کا ماحول سدھارنا ہوگا ۔ پورا معاشرہ درست کرنا ہمارے بس میں نہیں ہے لیکن اپنے گھر کا ماحول تو درست کر سکتے ہیں ۔ دین فطرت سے وابستگی ان تمام پریشانیوں کا بخوبی حل ہے ۔گھروں میں اسلامی ماحول کو ترویج دیں ۔ بیٹیوں کو بچپن سے ہی پردے اور حیا کی تاکید رکھیں ۔ اس کے ساتھ میں وز کڈز اسکول انتظامیہ کا بھی مشکور ہوں جنہوں نے ڈریس کوڈ کی خلاف ورزی کے باوجود میری بیٹیوں کی باحجاب سکول آمد کو سراہا ہے۔ کہتے ہیں کہ مرد کی غیرت کا اندازہ اسکی ماں بہن بیوی بیٹی کے لباس سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے لیکن اس کے ساتھ ایک مرد کی غیرت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے. کہ اس نے اپنی بیٹی پر بیوی پر بہن پر.. کتنے قرض چھوڑے ہیں. بہت ہی گری ہوئی غیرت ہے اس مرد کی. جو کسی کی عزت ساتھ کھیل جائے جذبات کے ساتھ کھیل جائے اور اسے اس بات کا اندازہ بھی نہ ہو کہ اس نے کیا کر دیا ہے. اور اپنی بیٹی کے لئے کیا چھوڑا ہے.. عزت چھوڑی ہے یا اپنی گری ہوئی غیرت .باحیا عورت ماں بہن بیٹی بیوی کے روپ میں والدین کےلئے باعثِ فخر، بھائیوں کیلئے باعثِ عزت،شوہر کیلئے دنیا کا قیمتی سرمایہ اور اولاد کیلئے عمدہ نمونہ ہوتی ہے بہن بیٹیوں سے درخواست ہے آپ اپنے باپ بھائیوں کا غرور ہو نادانی میں کوئی ایسا کام نہ کرنا جس سے تمھارے باپ بھائیوں کا سر شرم سے جھک جائے اللہ تعالی تمام بہن بیٹیوں کی عزت و پردے محفوظ رکھے اور انہیں ذہرہ پاک کی کنیزیں بننے کی سعادت نصیب فرمائے یااللہ ہماری قوم کو بے حیائی سے بچنے کی توفیق عطا فرما آمین ثم آمین
از قلم شہزاد حیدر گجر نمبردار چوآ سیدن شاہ
... See MoreSee Less

View on Facebook

چوآسیدن شاہ کے علاقہ کہون میں سیمنٹ فیکٹریوں کے ماحول دشمن اقدامات کی وجہ سے فضائی آلودگی ، قدرتی وسائل کی تباہی ، اور آبی وسائل پر قبضہ کے بعد پیدا ہونے والی تکلیف دہ صورت حال صرف اس علاقہ کے ذی شعور عوام کے لئے ہی نہیں پورے ضلع چکوال کے عوام کے لئے لمحہ فکریہ بن چکی ہے ۔سیمنٹ فیکٹری مالکان کی ہٹ دھرمی اور ماحول دشمن اقدامات ناقابل معافی جرم بن چکا ہے کیونکہ انھوں نے ضلع چکوال کی حسین وادی کہون ہی کو نہیں بلکہ عظیم تاریخی ورثہ کٹاس راج کو تباہی و بربادی کے دھانے پر پہنچا دیا ہے اور اب اسکی تباہ کاریاں پورے علاقے کو لپیٹ میں لے رہی ہیں جو کہ ناقابل برداشت ہو چکا ہے۔اس سلسے میں احتجاجی تحریک کے معاملات طے کرنے بارے ایک اجلاس منعقد کیا گیا جس میں احساس وادی کہون ویلفیئر کے چیئرمین ملک اشفاق قادر ، ممتاز فاونڈیشن کے چیرمین ممتاز منگوال ،سیاسی سماجی شخصیت حاجی ملک محمد یوسف ، ملک فضل محمد صدر امن کمیٹی ، سابق نائب ناظم ملک امیر وعولہ ، ملک اشرف تترال، ملک احسان محمود ، ملک ماجد دوالمیال،چوآ فرنٹ فلاحی تنظیم کے صدر ملک اصغر،ملک راحیل منہاج القرآن ، ملک صابر ،راجہ عمران موہڑہ راجگان،ملک آفتاب عرف ٹیڈی،اور علاقہ بھر سے آئے ہوئے بڑی تعداد میں معززین علاقہ نے شرکت کی اور اپنا موقف اور تجاویز پیش کی ،یہ اجلاس بارش کا پہلا قطرہ ہے سیاسی و سماجی کارکنان صحافی حضرات و شرکا اجلاس کی عظمت کو سلام آپ لوگ ایک بہترین مقصد کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں پانی کی کمی گردو غبار ،فضائی آلودگی جنگلی حیات کی تباہی ہماری موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لیے بھیانک ثابت ہوگی ہم سب کو بلاتفریق سیاسی و سماجی وابستگیوں کے اس ایشو پر آواز اٹھانی ہو رہی ہے ۔مانا کے یہ ایک طاقتور سرمایہ دار مافیا ہے۔لیکن عوامی سمندر کے آگے بند باندھنا بھی ہمیشہ ممکن نہیں رہتا ہمیں اس مافیا کو لگام ڈالنی ہوگی اگر ہم سب اتفاق رائے سے یک جان ہو کر آگے بڑھیں تو یقینا فطرت کے ہوچکے نقصانات کا ازالہ کرانے میں کامیابی ہمارا مقدر ہوگی،میٹنگ میں چوآ فرنٹ فلاحی تنظیم کا بالخصوص ذکر کیا گیا ،جسے سن کراطمینان قلب محسوس ہوا
مطمئن ہوں کہ مْجھے یاد رکھے گی دْنیا
جب بھی اس شہر کی تاریخِ وفا لکّھے گی
اس کوچے کے در و دیوار مجھے سوچیں گے
وسعتِ دشت مجھے آبلہ پا لکھّے گی
چوآ فرنٹ فلاحی تنظیم ایک عظیم مشن کا نام تھا ہے اور رہے گا ۔ جس کا مشن سیاسی و سماجی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر چوآسیدن شاہ کے اجتماعی عوامی مفاد کے لیے آواز بلند کرنا قرار پایا تھا آج بھی سماجی شخصیات چوآ فرنٹ کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہیں جس کا واضع ثبوت کل چوآ سیدن شاہ میں ہونے والے اجلاس میں سیاسی و سماجی شخصیات حاجی ملک یوسف صاحب ۔ملک فضل صاحب ۔ملک احسان صاحب نے چوآ فرنٹ فلاحی تنظیم کے بارے میں مستحسن کلمات کا اظہار کیا ۔ مقامی مجلس عاملہ سے درخواست ہے کہ اپنی میٹنگ بلائیں اور اس حساس ایشو پر مشاورت کریں ۔ اگرچہ ایسے احتجاج درپردہ محرکات کی وجہ سے باعث تحفظات ہوتے ہیں لیکن ہم سب کو حسن ظن رکھتے ہوئے علاقے کے ماحول و قدرتی وسائل کی تباہی کے خلاف اور اپنی موجودہ و آنے والی نسلوں کے تحفظ کے لیے اس احتجاج کی اخلاقی حمایت کرنا ہوگی ۔لیکن کسی تخریبی کاروائی یا ایسی منفی سرگرمی سے گریز کرنا ہوگا جس سے تنظیم افراد یا علاقے کے لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہو ۔اللہ تعالی بابا یوسف سمیت تمام شرکا کو اچھی صحت کےساتھ لمبی عمر عطا فرمائے ہم ہر اچھے اقدام میں آپ کے ساتھ ہیں اس کے ساتھ ہم چوآ فرنٹ فلاحی تنظیم کے صدر ملک اصغر صاحب کے بیان و موقف کی مکمل تائید و حمایت کرتے ہیں اور دائمے درمے سخنے ہر مدد کی یقین دہانی کراتے ہیں اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین ۔
دعاگو ۔ شہزاد حیدر گجر نمبردار چوآ سیدن شاہ
... See MoreSee Less

View on Facebook

کسی بھی ادارے ۔ مقتدر شخصیت یا تنظیم کے احکامات اس وقت زیادہ موثر ثابت ہوتے ہیں جب عام عوام ۔ سول سوسائٹی بالخصوص نوجوان نسل کسی احسن اقدام کی عمل درامدگی کے لیے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوں
میونسپل کمیٹی کی جانب سے شہر میں بھاری ٹریفک کے داخلے پر معین اوقات کے دوران پابندی کے احکامات جاری کیے گئے ہیں سردست بہت ہی اچھا اقدام ہے مکمل حمایت و تائید کی جاتی ہے ۔لیکن اس پر مکمل عمل درآمد چوآ کلرکہار بائی پاس روڈ کی تکمیل کے بعد ہی ممکن ہوسکے گا بہرحال قابل تحسین اقدام ہے عملہ ٹریفک بھی اس پیغام کو پھیلانے میں مدد کرے آہستہ آہستہ اس کی بازگشت ہیوی ٹریفک والوں تک پہنچ جائے گی اور مستقبل قریب میں کوئی یہ نہیں کہہ سکے گا کے مجھے علم نہیں تھا سول سوسائٹی کے تعاون کے بغیر احکامات پر عمل درآمد کرانا مشکل ہوتا ہے ۔ ہر جگہ سرکاری اہلکار موجود نہیں رہ سکتے ہم عوام اور بالخصوص نوجوان نسل کو بھی آگے بڑھ کر میونسپل کمیٹی کے اس اقدام برائے تحفظ شہریاں کی مکمل حمایت و تائید کرنی ہوگی ۔ سول سوسائٹی اور ادارے مل کر ہی ایک محفوظ معاشرے کا قیام یقینی بنا سکتے ہیں ۔تاوقتیکہ دوسرا بائی پاس تکمیل کو پہنچے تب تک نرمی کے ساتھ برتاو کیا جائے جب دوسرا بائی پاس مکمل ہو جائے تو پھر سختی کے ساتھ بلاتفریق اس حکم کی پابندی کروائی جائے اللہ تعالی ہم سب کو اجتماعی معاملات پر مثبت سوچ کے ساتھ کردار ادا کرنے کی ہمت عطا فرمائے آمین۔ از قلم شہزاد حیدر گجر نمبردار چوآ سیدن شاہ
... See MoreSee Less

View on Facebook

بہن بیٹیوں کی عصمت دری پہ سیاست کرنا کمینگی کی انتہا ہے ۔ظالم کا تعلق چاہے کسی بھی سیاسی یا مذہبی جماعت سے ہو لعین ہی ہوتا ہے ۔لوگوں کے پاس معلومات کم ہوتی ہیں سنی سنائی بات آگے پہنچا دیتے ہیں جب تک اصلیت سامنے آتی ہے تب تک وائرل ہو جاتی ہے اور جھوٹی خبر اور سچی خبر کے درمیان فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے اور ابہام پیدا ہو جاتا ہے ۔پھر لوگ اداروں کی کارکردگی پر انگلی اٹھانے لگتے ہیں۔ کوہاٹ kpk میں اسما قتل کیس میں ہونے والی درندگی و بربریت کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے یہ کیس کافی پیچیدہ ہے ۔ قاتل اور مقتول کی رشتہ داری کی خبر بھی موجود ہے اور نامزد ملزم کی ایک سال سے بیرون ملک موجودگی کی اطلاع بھی گردش میں ہے اگرچہ مقتولہ کا نزعی بیان بھی موجود ہے اور اس کے بعد مقامی ایم این اے شہر یار آفریدی کا بیان سننے کو ملا اس حساب سے معاملہ گھمبیر ہے ۔ ہم امید کرتے ہیں کے kpk پولیس اس مسلے کو بخوبی انجام تک پہنچائے گی اور ملزمان کو گرفت میں لا کر قرار واقعی سزا دی جائے گی۔ ۔(* واللہ و عالم ) اللہ تعالی مقتولہ کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین ... See MoreSee Less

View on Facebook