Choanews added 3 new photos.

ڈاکٹر شیر باز چوہدری ایم ایس مائینزلیبر ویلفیئر ہسپتال چوآسیدن شاہ تعینات ہوگئے یقینا ڈاکٹر شیر باز صاحب اس کلیدی عہدے پر تعینات ہوکر دُکھی انسانیت کی بھرپور خدمت کا مشن جاری رکھیں گے۔ اس کے ساتھ جناب ڈاکٹر مختار احمد مرزا صاحب ایم ایس اپنے عہدے سے سبکدوش ہوگئے ڈاکٹر مختار صاحب نے اپنی سروس کا ایک بڑا عرصہ چوآسیدن شاہ میں دُکھی انسانیت کی خدمت میں گزارا ہے ،علاقہ چوآسیدن شاہ کے عوام ڈاکٹر مختار صاحب کی خدمات ہمیشہ یاد رکھے گی۔معروف کاروباری شخصیت ہارون غنی چیمہ صاحب کی کاوشوں سے مائنز اسپتال کی صورتحال انتہائی تسلی بخش حیثیت اختیار کر چکی ہے
... See MoreSee Less

View on Facebook

چوآ سیدن شاہ 4 جوان سال بچوں کی گمشدگی کے وقوعے کا ڈراپ سین . گھر سے بھاگے ہوئے بچے منڈی بہاؤالدین سے مل گئے منڈی بہاؤالدین پولیس کی اچھی کوشش۔بچے گھر واپس پہنچ گئے ... See MoreSee Less

View on Facebook

پیغام مفید عام برائے مفاد عامہ ... See MoreSee Less

Choanews added 7 new photos.

میونسپل کمیٹی چکوال کی جانب سے ٹیکسوں میں کیا گیا اضافہ عوامی احتجاج کی وجہ سے واپس لے لیا گیا ۔ چوآ سیدن شاہ کی عوام کی نظریں چوآسیدن شاہ کے منتخب نمائندوں پر لگی ہوئی ہیں
... See MoreSee Less

View on Facebook

بدلتی قدریں۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر راجہ ریاض الحق جنجوعہ
پیشکش : شبیر ملک
رواداری، حسن اخلاق اور برداشت برصغیر کے لوگو ں کا ورثہ تھا اور انتہائی خوبصورت ورثہ تھا، جس کی ہمارے معاشرے نے صدیوں آبیاری کر کے اسے پروان چڑھایاتھا لیکن صد حیف کہ اب یہ تمام مثبت معاشرتی ورثے سے ہاتھ دھو رہے ہیں نئی نسل جو بزہم خود اپنے آپ کو تعلیم یافتہ قرار دیتی ہے اس میں یہ خوبیاں دم توڑ رہی ہیں، عدم برداشت اور دوسروں کی رائے کو غلط سمجھ کر اپنی رائے کو مبنی بر حق سمجھنا عام وطیرہ ہے۔ سوشل میڈیا پر آپ نظر ڈالیں، سیاسی مخالفین یا مذہبی فرقے کی بنیاد پر ننگی، فحش گالیاں، مستورات یا ذاتی افعال کو بھی انتہائی قبیح اور واہیات طریقے سے نشانہ بنانا بے پردگی کرنا، ایک عام سی بات ہو گئی ہے، عدم برداشت کی تمام حدودوقیود کو پھلانگ کر جانا عادت بن گئی ہے اور اکثریت اس میں خوش ہوتی ہے، یہ سوچے بغیر کہ ہم نے کیا کھو دیا ہے، گنوا دیا ہے، سیرت کا تمام حسن گہنا گیا ہے ہو سکتا ہے کہ یہ تحریر اکثر لوگوں کے سر سے گزر جائے لیکن یاد رہے تو قومی آزادی صرف پیسے یا اسلحہ کے زور پر دائمی برقرار نہیں رہ سکتی، قوموں کی مضبوطی اور طاقت کے لئے سرمایہ اس کی اخلاقی اور معاشرتی قدریں ہی کرتی ہیں، یہ اخلاقی قدریں اس قدر مضبوط ہوتی ہیں کہ دشمن پوری قوت سے بھی اس مضبوط سد سکندری کو توڑ نہیں سکتا، آخر زیر ہو جاتا ہے۔
ہلاکو نے تمام امت مسلمہ کو روند ڈالا تھا، پوری اسلامی تہذیب اور ثقافت کو ملیا میٹ کر کے رکھ دیا تھا، مسلمان خس و خاشاک کےڈھیر کی ماند تھے لیکن اس مفتوح و شکست خوردہ قوم نے محض اپنے کردار سے اس ظالم، متکبر اور جارح قوم کو شکست فاش دی اور ان کاہتھیار یہی اخلاقی ورثہ تھا، بقول علامہ اقبال کعبے کو پاسباں مل گئے صنم خانے سے یہ تاریخ کا سبق ہے اور جو قومیں تاریخ سے سبق نہیں لیتی وہ مٹ جاتی ہیں، رومی، ایران، سپارٹا کی تہذیبوں نے جب اپنی معاشرتی قدروں کو چھوڑا تو تباہی ان کا مقدر بنی، صفحہ ہستی پر چندکھنڈرات یا تاریخ کے چند اوراق ہی ان کے حصے میں آئے اور ہم پھر ان تباہ شدہ قوموں کی پیروی کیوں کر رہے ہیں۔ ہمارے اسلاف نے اپنی عملی زندگی میں بے پناہ قربانیاں دے کر ہمارے لئے جو قیمتی معاشرتی ورثہ چھوڑا ہے اس سے دست کش کیوں ہو رہے ہیں، چھوٹوں کے لئے شفقت اور احترام اور دوسروں کی رائے کو فائق نہ سمجھنا گفتگو میں لفظوں کے چناؤ میں بے حد بے احتیا طی، ہمارے مزاج کا خاصہ بن گیا ہے،ذرا سی بات پر حد سے بڑھ جانا، سیاسی مخالفت میں انتہائی گھناونے، اخلاق سے گرئے ہوئے ریمارکس یہ ہماری شخصیت کا عکس ہے، اور یہ عکس کتنا ڈراونا بے سود اور بھیانک ہے، جس کا ہمیں اندازہ ہی نہیں۔ الفاظ اور خیالات اصل میں اس بندے کا تمام شجرہ نسب ہمارے سامنے اس کی اصلیت اور ذہنی سوچ کو اس طرح عیاں کر دیتے ہیں جیسے سورج کی روشنی میں تمام دنیا۔
بد قسمتی سے آج کل زیادہ نو دو لتئے ہر افق پر چھائے نظر آتے ہیں، جن کے بیک گراونڈ میں حسرتیں، ناکام آرزوئیں اور خواہشات کا سمندر تو تھا لیکن تہذیب و تمدن اور شائستہ اطوار کی تربیت کا دوردور تک وجود ہی نہیں تھا۔ اس ایک کڑی کا نہ ہونا تمام خرابیوں کی جڑ ہے ، خدارا اس ثقافتی دولت کو ضائع نہ کریں، اپنی اصلی تہذیب کا عکس بن کر معاشرہ کو وہ دیں جو آپ کے پرکھوں اور بزرگوں نے صدیوں سنبھال کر سینے سے لگا کر رکھا۔ جس کی بدولت احساس اور محبت کی دولت کے دریا بہتے تھے۔ میڈیا گفتگو اور بحث میں شائستہ الفاظ کا چناؤ کریں، دل شکنی والے الفاظ و خیالات سے اجتناب کریں، بحث دلیل سے کریں گالیوں سے نہیں۔
... See MoreSee Less

View on Facebook

زندہ دلان چکوال کا ایک منفرد اعزاز اہلیان چکوال کو مبارک
دبئی متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کی قابل ستائش صحت مندانہ سپورٹس سرگرمیوں کے انعقاد پر حکمران دبئی شیخ محمد بن راشد ال مکتوم اور حکومت دبئی کی ہدایت پر خدمات کے اعتراف کے لیے اعزازی تقریب منعقد کی گئی۔جس میں پاکستانی کمیونٹی کی ایک بڑی تعداد موجود تھی ۔ مختلف شعبوں میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے افراد کو اعزازات سے نوازا گیا اس شاندار تقریب میں زندہ دلان چکوال (چکوال کلب )کی نمائندگی چوہدری نثار زیدی چکرال۔ شہزاد حیدر گجر نمبردار چوآ سیدن شاہ سید باقر شاہ منوال نے کی ۔اعزازی سرٹفکیٹ اور تمغہ حسن کارکردگی چوہدری نثار چکرال نے وصول کیے ۔تقریب میں زندہ دلان چکوال کی زندہ دلی اور ثقافت و صحت مندانہ سرگرمیوں سے لگاو کو خوب سراہا گیا۔ چوآ نیوز ٹیم کی جانب سے دنیا بھر میں بسنے والے چکوالیوں (بالخصوص چکوال کلب کے ارکان) چوہدری بشارت چک بھون ۔ امجد گجر بھون ۔سید ساجد شاہ بلھے بالا ۔حاجی اظہر منڈے ۔چوہدری فاروق منوال ۔چوہدری نثار شرطہ مہرو۔چوہدری نوید کریم آڑہ گجراں۔ چوہدری ساجد جبیر پور ۔ملک مظہر جہلم ۔ملک عارف تترال ۔مرزا عامر سرگودھا ۔حاجی جاوید ڈھکو ۔ملک اجمل نوابی چوہدری ممتاز نوید چکرال ۔چوہدری کامران ۔ملک فیصل ۔ چوہدری محمود ۔ چودھری جمشید بہکڑی ۔ چوہدری تصور گجر بھون۔ چوہدری شیراز ھڈالہ۔فاروق وڑائچ ۔ ڈاکٹر محبوب۔چوہدری اسد چک نارنگ ۔ چوہدری طارق ترکوال۔ چوہدری پرویز کھنوال اور جملہ اراکین کو چکوال کا نام سربلند رکھنے پر مبارک باد پیش کی جاتی ہے
... See MoreSee Less

Choanews added a new photo. ... See MoreSee Less

View on Facebook

الحمد للّٰہ رب العالمین ... See MoreSee Less

View on Facebook

Choanews added a new photo. ... See MoreSee Less

View on Facebook

Choanews added a new photo. ... See MoreSee Less

View on Facebook